بھٹکل 23/اکتوبر (ایس او نیوز) بھٹکل میں ڈینگی بخار سے مزید ایک شخص کی موت واقع ہوگئی جن کی شناخت بھٹکل ٹاون میونسپل حدود کے قاضیا اسٹریٹ کے رہائشی محمد میراں سعدا (77) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
بخار ہونے کی وجہ سے موصوف کو مورخہ 8/اکتوبر کو بھٹکل کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، بخار میں کمی نہ ہوئی اور صحت مزید بگڑنے لگی تو 12/اکتوبر کو انہیں مینگلور کے نجی اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا، وہاں آئی سی یو میں علاج کے دوران صحت میں بہتری نظر آنے پر آئی سی یو سے اسپتال کے کمرے میں منتقل کیا گیا تھا، مگر پھر اچانک نمونیا ہوگیا تو واپس آئی سی یو میں داخل کیا گیا، مگر پھر حالت مزید بگڑتی چلی گئی اور پیر صبح انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔
ڈینگی کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ بخارکی دوائی لینے کے بعد بخار کم ہوجاتا ہے، لیکن پھر اچانک تیز بخارکا حملہ ہوتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
بتاتے چلیں کہ بھٹکل میں ڈینگی کے سوسے زائد مریض پائے جاتے ہیں، اکثر مریض پرائیویٹ ڈاکٹروں اور پرائیویٹ اسپتالوں کے ڈاکٹروں سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے اپنے گھر وں پر ہی دوائیاں لے کر علاج کررہے ہیں، جبکہ مینگلور میں دس مریضوں سمیت پندرہ سے زائد مریض مختلف اسپتالوں میں ایڈمٹ ہیں۔
بھٹکل میں ایک طرف قدیم محلوں بالخصوص قاضیا اسٹریٹ، مُشما اسٹریٹ، غٖوثیہ اسٹریٹ، جامعہ اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ اور صدیق اسٹریٹ وغیرہ علاقوں میں مچھروں کی بھرمار پائی جاتی ہے، وہیں شہر کے مضافاتی علاقوں ماوین کُوروے (بندر) اور ہیبلے پنچایت حدود کے جامعہ آباد روڈ پر کچروں کے ڈھیر پائے جانے سے ان علاقوں میں بھی ڈینگی کا مرض پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ عوام تعلقہ انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ شہر میں صفائی ستھرائی کی طرف خصوصی دھیان دیا جائے، مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لئے دوائیاں چھڑکنے سمیت فوگنگ کرائی جائے اور عوام میں ڈینگی کو لے کر جس طرح کی تشویش پائی جارہی ہے، اُسے دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔
واضح رہے کہ ڈینگی سے اتوار کو ہی ایک 24 سالہ نوجوان پرجول کھاروی کی موت واقع ہوئی تھی، جبکہ آج پیر صبح محمد میراں سعدا کی بھی ڈینگی سے ہی موت واقع ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس طرح دو دن میں بھٹکل سمیت ضلع اُترکنڑا میں ڈینگی بخار سے دو لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔